نئی دہلی،9/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستان سے دہشت گرد فنڈنگ کے معاملے میں این آئی اے نے جہاں اس پورے معاملے کی جانچ میں اب تک7افرادکوگرفتار کیا ہے۔وہیں دوسری طرف سید علی شاہ گیلانی کے دونوں بیٹوں سے بدھ کو بھی این آئی اے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔آپ کو بتا دیں کہ بدھ کو راجیہ سبھا میں وزارت داخلہ نے اپنے تحریری بیان میں یہ بات کہی ہے کہ وادی کشمیر میں بدامنی پھیلانے اور پتھر بازی کے لئے علیحدگی پسند لیڈر پاک مقبوضہ کشمیر سے رابطے میں ہیں۔یہ علیحدگی پسند لیڈر صرف دہشت گردوں سے ہی رابطے میں نہیں بلکہ دہشت گردوں کے رہنما سے بھی براہ راست رابطے میں ہیں۔راجیہ سبھا میں وزارت داخلہ نے یہ بھی معلومات دی ہے کہ سرحد کے اس پار یعنی پاکستان سے کچھ علیحدگی پسند لیڈر وادی کشمیر میں بدامنی پھیلانے کے لئے ہدایات تو لیتے ہی ہیں،ساتھ ہی ساتھ پاکستان کی جانب سے کشمیر میں بدامنی پھیلانے کے لئے علیحدگی پسندوں کو فنڈنگ بھی کی جا رہی ہے۔وزارت داخلہ کے اس چونکانے والے انکشافات سے صاف ظاہر ہے کہ آنے والے وقت میں بڑے علیحدگی پسند لیڈر بھی جانچ ایجنسیوں کے نشانے پر آ سکتے ہیں،کیونکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ جس طریقے سے سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور دوسرے بڑے علیحدگی پسند لیڈروں کا وادی کشمیر میں بدامنی پھیلانے اور اسکولوں کو جلانے میں براہ راست ہاتھ آ رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ اس معاملے میں ابھی اور انکشافات ہو سکتے ہیں۔